Thursday, December 12, 2013

Ilm o Aagahi (6)

Ilm o Aagahi

                                             o بسم الله الرحمآن الرحیم
تعبیروتشریح سورہ فاتحہ: با لحاذ مصحف قرآن مجید کا آغاز سورہ فاتحہ سے ہوتا ہے ۔ قرآن مجید میں الله تعالی کا ارشاد گرامی ہے"ولقد آتیناکا سبعم من المثانی و القرآن العظیم"سورہ الحجر آئت 87 (ترجمہ) یقینن ہم نے سات آئتیں دے رکھی ہیں کہ دہرائ جاتی ہیں اور عظیم قرآن بھی دے رکھا ہے ۔ اس آئت کے ذریعہ الله تعالی نے نہ صرف قرآن مجید کا تعارف کروایا بلکہ امت مسلمہ کو تحفظ قرآن مجید کا طریقہ بھی سکھا دیا یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید کی ہر سورہ میں آیات کی تعداد گن کر شایع کی جاتی ہیں ۔ قرآن مجید میں سورہ فاتحہ کی سات آیات ابتدا سے جبکہ قرآن مجید کی اشاعت کا آغاز ہوا'جس طرح لکھی جاتی تھیں اسی ترتیب سے قیامت تک لکھی جاتی رہیں گی کیونکہ سورہ الحجر آئت 9 میں رب تعالی کا فرمان ہے"انا نحن نزلنا الزکر و انا لہ لحافظون" (ترجمہ) ہم نے ہی اس قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں ۔ اس لئے کسی بھی شیطآن نما فرد کے لئے یہ ممکن ہی نہیں کہ باہر سے قرآن کے متن میں ایک لفظ بھی داخل کر سکے یا قرآن پاک کےاندر سے ایک حرف بھی نکال سکے اور تحریف تو دور کی بات ہے اس کے مصحف میں معمولی سا رد و بدل بھی کسی کے لئے ممکن نہ ہوگا ۔ بیت الله اور مسجد نبوی میں موجود اور دیگر مسلم ممالک میں شایع ہونے والے معیاری قرآنی صحیفوں میں سورہ فاتحہ کی پہلی آئت"بسم الله الرحمان الرحیم"اور بلترتیب ساتویں آئت"صراط الذین انعمت علیھم غیر المغضوب علیھم ولا الضآلین" ہے ۔

No comments:

Post a Comment