تعوذ و تسمیہ کو تحریر کرنے کا درست طریقہ :--
اعوذ بالله من الشیطآن الرجیم ۔
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ O
تسمیہ قرآن مجید کی پہلی سورہ یعنی سورہ فاتحہ کی پہلی آیت ہے جبکہ تعوذ اگرچہ کلام الله ہے جوکہ ہمیں حدیث قدسی میں ملتی ہے چنانچہ تعوذ و تسمیہ کو حسب ذیل طریقوں سے لکھنا صحیح نہیں :--
١۔ اعوذ بالله من الشیطآن الرجیم ۔
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ۔
٢۔ اعوذ بالله من الشیطآن الرجیم o
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ O
تعوذ و تسمیہ کو بولتی تحریر کے انداز میں لکھنا چاہئے تاکہ ان دونوں میں جو فرق ہے وہ قاری پر واضح ہو۔
اعوذ بالله من الشیطآن الرجیم ۔
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ O
تسمیہ قرآن مجید کی پہلی سورہ یعنی سورہ فاتحہ کی پہلی آیت ہے جبکہ تعوذ اگرچہ کلام الله ہے جوکہ ہمیں حدیث قدسی میں ملتی ہے چنانچہ تعوذ و تسمیہ کو حسب ذیل طریقوں سے لکھنا صحیح نہیں :--
١۔ اعوذ بالله من الشیطآن الرجیم ۔
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ۔
٢۔ اعوذ بالله من الشیطآن الرجیم o
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ O
تعوذ و تسمیہ کو بولتی تحریر کے انداز میں لکھنا چاہئے تاکہ ان دونوں میں جو فرق ہے وہ قاری پر واضح ہو۔

No comments:
Post a Comment