اقتباس" ازحرمت ربا اور غیر سودی مالیاتی نظام" تالیف ڈاکٹرمحمود احمد غازی
تمہید ........،" ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب جدید دنیائے اسلام میں نفاذ شریعت کی پوری مہم کی کامیابی کا دارومدارمسئلہ سود کے مناسب ، فوری اور قابل عمل حل اور اسکے راستے میں درپیش رکاوٹوں کو کامیابی سے دور کر لینے پر ہے.. اگر ہم لوگ آج سود کی اس رکاوٹ کو دور کردینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو نفاذ اسلام کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ختم ہو جاتی ہے اور بقیہ احکام کا نفاذ اور اسلام کے عدل و احسان کا قیام بہت آسان ہو جاتا ہے..
لیکن جو مسئلہ جتنا اہم اور جتنا بڑا ہوتا ہے اس کا قابل عمل حل اتنی ہی بڑی اور سنجیدہ کوششوں کا متقاضی ہوتا ہے.. افسوس کی بات یہ ہے کہ ربا کے معاملے میں اب تک ہم نے من حیث القوم کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی..نہ مختلف حکومتوں نے کبهی کهلے اور صاف ذہن سے یہ طے کیا کہ ربا کواس کی تمام اقسام کے ساته ختم کر کے ایک نیا عادلانہ نظام قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت اور مملکت پاکستان کا ملی فریضہ ہے، اور نہ ہمارے دینی طبقات اور ماہرین شریعت نے روائتی انداز کی مطالبہ بازی اورنعرہ سازی سے آگے بڑه کرکوئی ٹهوس عملی کوشش کی _
یہ کام نہ محض حکومتوں کے کرنے کا ہے اور نہ صرف علماء اورماہرین شریعت کا_ یہ پوری قوم کی اجتماعی ذمہ داری ہے جس کی انجام دہی میں علمائے کرام ، ماہرین شریعت ،ماہرین اقتصادیات و بینکاری، ارباب حکومت و سیاست اور اصحاب ادب و صحافت سب کو بقدر استطاعت حصہ لینا ہوگا_
محض کسی ایک طبقے کی نیم دلانہ دفع الوقتی یا چلتی ہوئی اخباری تحریروں سے ملک وملت کے مسائل نہ پہلے حل ہو سکے ہیں نہ آئندہ حل ہونے کی توقع ہے _

No comments:
Post a Comment