Monday, July 11, 2022

ڈالی ہے گردن ۔۔۔۔۔۔۔

 



ڈالی ہے گردن ۔۔۔۔۔۔۔

عوام کو کوئی توپ سمجھتا ہے تو سمجھا کرے گر چاہے دل اسکا

مگر مجبور شہری کر سکتا ہے کیا کسی لینے میں نہ ہی دینے میں

عام آدمی بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ چاہتا ہے اسکے علاؤہ کیا

آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا اونٹ نے ڈالی ہے گردن اپنی خیمے میں

No comments:

Post a Comment