خوشئے گندم ۔۔۔۔۔۔
شاعر مشرق کے یہ الفاظ نظر آئے سنہری
پڑھایا تھا سبق پہلے اسے کہتے ہو بھلا دو
گر کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو
No comments:
Post a Comment