Monday, February 12, 2024

ووٹ کا چور ۔۔۔۔۔۔۔ قاضی جی شہر کے اندیشے سے بے نیاز ہو کر اب دیکھو تو اپنی ہی کھال میں مست رہنے لگے ہیں بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے کس نے کہا سچ جو تھا نوٹ کا، ووٹ کا چور اسکو کہنے لگے ہیں

 



ووٹ کا چور ۔۔۔۔۔۔۔

قاضی جی شہر کے اندیشے سے بے نیاز ہو کر اب

دیکھو تو اپنی ہی کھال میں مست رہنے لگے ہیں

بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے کس نے کہا سچ

جو تھا نوٹ کا، ووٹ کا چور اسکو کہنے لگے ہیں

No comments:

Post a Comment