منتظر ۔۔۔۔۔۔۔۔ 16, اگست 2014
کان ہر اک منتظر ہے وہ سنے گا یہ نوید
قوم دامن پر لگا ہر داغ اب دھونے کو ہے
کونسی آفت تھی جو آج تک جھیلی نہیں
منتظر ہر آنکھ ہے اب اور کیا ہونے کو ہے
No comments:
Post a Comment