Thursday, August 15, 2024

منتظر ۔۔۔۔۔۔۔۔ 16, اگست 2014 کان ہر اک منتظر ہے وہ سنے گا یہ نوید قوم دامن پر لگا ہر داغ اب دھونے کو ہے کونسی آفت تھی جو آج تک جھیلی نہیں منتظر ہر آنکھ ہے اب اور کیا ہونے کو ہے

 منتظر ۔۔۔۔۔۔۔۔    16, اگست 2014

کان ہر اک منتظر ہے وہ سنے گا یہ نوید

قوم دامن پر لگا ہر داغ اب دھونے کو ہے

کونسی آفت تھی جو آج تک جھیلی نہیں

منتظر ہر آنکھ ہے اب اور کیا ہونے کو ہے

No comments:

Post a Comment