Ilm o Aagahi (4)
حوالہ حدیث منقولہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم نے اپنی گزشتہ پوسٹ میں جو حدیث نقل کی ہے اسکا حوالہ دیتے ہوئے جناب حافظ صلاح الدین یوسف صاحب اپنی کتاب ‘ تفسیر سورہ فاتحہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ “ اس حدیث میں بسم الله کو سورہ فاتحہ کی ایک آئت بتلایا گیا ہے ۔
یہ حدیث سنن دارقطنی اور سنن بیہقی میں ہے ۔ علاوہ ازیں اسے محدث عصر، شیخ البانی رحمت الله نے اپنی کتاب “ سلسلتہ الاحادیث الصحیحہ “ میں بھی نقل کیا ہے ۔ “
“ یہ حدیث فیصلہ کن دلیل کی حیثیت رکھتی ہے اور اسکے بعد یہ اختلاف ختم ہو جانا چاہئے ۔ ممکن بلکہ اغلب ہے کہ متقدمین علماء کے علم میں یہ حدیث نہیں آ سکی جسکی وجہ سے انہوں نے متعارض دلائل کو سامنے رکھتے ہوئے ایک دوسرے کے خلافرائےقائم کی لیکن صریح “ نص “ مل جانے کے بعد بسم الله کو سورہ فاتحہ کی آئت تسلیم نہ کرنے کا کوئ جواز نہیں ہے . (والله اعلم )“
حوالہ حدیث منقولہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم نے اپنی گزشتہ پوسٹ میں جو حدیث نقل کی ہے اسکا حوالہ دیتے ہوئے جناب حافظ صلاح الدین یوسف صاحب اپنی کتاب ‘ تفسیر سورہ فاتحہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ “ اس حدیث میں بسم الله کو سورہ فاتحہ کی ایک آئت بتلایا گیا ہے ۔
یہ حدیث سنن دارقطنی اور سنن بیہقی میں ہے ۔ علاوہ ازیں اسے محدث عصر، شیخ البانی رحمت الله نے اپنی کتاب “ سلسلتہ الاحادیث الصحیحہ “ میں بھی نقل کیا ہے ۔ “
“ یہ حدیث فیصلہ کن دلیل کی حیثیت رکھتی ہے اور اسکے بعد یہ اختلاف ختم ہو جانا چاہئے ۔ ممکن بلکہ اغلب ہے کہ متقدمین علماء کے علم میں یہ حدیث نہیں آ سکی جسکی وجہ سے انہوں نے متعارض دلائل کو سامنے رکھتے ہوئے ایک دوسرے کے خلافرائےقائم کی لیکن صریح “ نص “ مل جانے کے بعد بسم الله کو سورہ فاتحہ کی آئت تسلیم نہ کرنے کا کوئ جواز نہیں ہے . (والله اعلم )“

No comments:
Post a Comment